Hazrat Sayyiduna Ameer Muawiya حضرت سید نا امیر معاویہ First Islamic Admiral Great Ameer Muawiya

Hazrat Sayyiduna Ameer Muawiya Kay Ausaf e Mubaraka


صحابی ابنِ صحابی حضرت سیّدُنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کا سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مل جاتا ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ 6ہجری میں صلحِ حُدیبیہ کے بعد دولتِ ایمان سے مالامال ہوئے مگر اپنا اسلام ظاہر نہ کیا۔ پھر فتحِ مکّہ کے عظمت والے دن والدِ ماجد حضرت ابوسفیان رضیَ اللہُ عنہ کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اس کا اظہار کیا تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مرحبا فرمایا۔(طبقاتِ ابن سعد،ج 7،ص285)
حُلْیۂ مبارکہ حضرت امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ گورے رنگ اور لمبے قد والے تھے، چہرہ نہایت وجیہ اور رُعْب و دبدبے والا تھا۔ زرد خِضاب استعمال فرمانے کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا کہ داڑھی مبارک سونے کی ہے۔ (تاریخ الاسلام للذھبی،ج 4،ص308)



فضائل و مناقب آپ رضیَ اللہُ عنہ کے اوصاف و کارنامے اور فضائل و مناقب کتبِ احادیث و سِیَر اور تواریخِ اسلام کے روشن اوراق پر نور کی کِرنیں بکھیر رہے ہیں۔ آپ کو کتابتِ وحی کے ساتھ ساتھ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خُطوط تحریر کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔(معجم کبیر،ج 5،ص108، حدیث: 4748)
دعائے مصطَفٰے کئی مرتبہ مصطفٰے کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دعاؤں سے نوازا کبھی علم وحِلم کی یوں دعا دی:اے اللہ!معاویہ کو علم اور حلم (بردباری) سے بھر دے۔(تاریخ کبیر،ج 8،ص68،حدیث:2624) کبھی ہدایت کا روشن ستارہ یوں بنایا: یااللہ!معاویہ کو ہدایت دینے والا، ہدایت پر قائم رہنے والا اور لوگوں کے لئے ذریعۂ ہدایت بنا۔ (ترمذی،ج 5،ص455،حدیث:3868)کبھی نوازشوں کی بارش کو یوں برسایا: اے اللہ! معاویہ کو حساب و کتاب کا عِلم عطا فرما اور اس سے عذاب کو دور فرما۔ (مسنداحمد،ج 6،ص85، حدیث: 17152)کبھی خاص مجلس میں ان کی عظمت پر یوں مہر لگائی:معاویہ کو بلاؤ اور یہ معاملہ ان کے سامنے رکھو، وہ قَوی اور امین ہیں۔(مسند بزار،ج 8،ص433،حدیث:3507)کبھی سفر میں خدمت کا شرف بخشا اور وضو کرتے ہوئے نصیحت فرمائی: معاویہ! اگر تم کو حکمران بنایا جائے تو اللہ پاک سے ڈرنا اور عدل و انصاف کا دامن تھام کر رکھنا۔(مسند احمد،ج 6،ص32، حدیث: 16931)
اوصافِ مبارکہ حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ اخلاص اور عہد و وفا، علم و فضل اور فقہ و اجتہاد، حسن ِسلوک، سخاوت، تقریر و خطابت، مہمان نوازی، تحمل و بُردباری، غریب پروری، خدمتِ خَلق، اطاعتِ الٰہی، اتّباعِ سنّت، تقویٰ اور پرہیز گاری جیسے عمدہ اوصاف سے مُتَّصِف تھے۔
بُردباری ایک مرتبہ ایک آدمی نے آپ رضیَ اللہُ عنہسے سخت کلامی کی مگر آپ نے خاموشی اختیار فرمائی، یہ دیکھ کر کسی نے کہا: اگر آپ چاہیں تو اسے عبرت ناک سزا دے سکتے ہیں، فرمایا:مجھے اس بات سے حیا آتی ہے کہ میری رِعایا میں سے کسی کی غلطی کی وجہ سے میرا حِلم (یعنی قوت برداشت) کم ہو۔ (حلم معاویہ لابن ابی الدنیا، ص:22) اصلاحِ نفس کا جذبہ آپ رضیَ اللہُ عنہ اپنے کام کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کا جذبہ بھی رکھتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضیَ اللہُ عنہا کو مکتوب روانہ کیا کہ مجھے وہ باتیں لکھ دیں جن میں میرے لئے نصیحت ہو۔ (ترمذی،ج4،ص186، حدیث: 2422مختصراً)
فرمانِ مولیٰ مشکل کُشا جنگِ صِفِّین کے بعد امیرُ المؤمنین حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم نے حضرت امیرمعاویہ رضیَ اللہُ عنہ کے بارے میں فرمایا: معاویہ کی حکومت کو ناپسند نہ کرو کہ اگر وہ تم میں نہ رہے تو تم سَروں کو کندھوں سے ایسے ڈھلکتے ہوئے دیکھو گے جیسےاندرائن (پھل)۔ (یعنی تم اپنے دشمن کے سامنے نہیں ٹھہر سکو گے)۔(مصنف ابن ابی شیبہ،ج 8،ص724، رقم: 18)
شیرِ خدا سے مَحبّت حضرت سیّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم کی شہادت کی خبر سُن کر آپ نے حضرت سیّدُنا ضرار رضیَ اللہُ عنہ سے فرمایا: میرے سامنے حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم کے اوصاف بیان کریں۔ جب حضرت ضرار رضیَ اللہُ عنہ نے حضرت سیّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم کے اوصاف بیان کئے تو آپ رضیَ اللہُ عنہ کی آنکھیں بھر آئیں اور داڑھی مبارک آنسوؤں سے تَر ہو گئی، حاضرین بھی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے اور رونے لگے۔(حلیۃ الاولیاء،ج1،ص126مختصراً)
اہلِ بیت کی خدمت حضرت سیّدُنا امام حُسین رضیَ اللہُ عنہ کو بیش قیمت نذرانے پیش کرنے کے باوجود آپ ان سے مَعْذِرَت کرتے اور کہتے: فی الحال آپ کی صحیح خدمت نہیں کرسکا آئندہ مزید نذرانہ پیش کروں گا۔ (کشف المحجوب، ص77ماخوذاً)
کعبہ میں نماز جب آپ رضیَ اللہُ عنہ مکۂ مُکرّمہ میں داخل ہوئے تو حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن عمر رضیَ اللہُ عنہُما سے سوال کیا: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کعبہ میں کس جگہ نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: دیوار سے دو یا تین ہاتھ کا فاصلہ رکھ کر نماز پڑھ لیجئے۔(اخبارِ مکۃ للازرقی،ج1،ص378)
موئے مبارک کا دھووَن پیا ایک بار آپ رضیَ اللہُ عنہ مدینۂ مُنوّرہ تشریف لائے تو حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضیَ اللہُ عنہَا کی خدمتِ عالیہ میں آدمی بھیجا کہ آپ کے پاس رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رِدا (یعنی چادر) مُقدّسہ اور موئے مبارک ہیں، میں ان کی زیارت کرناچاہتا ہوں، حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضیَ اللہُ عنہا نے وہ دونوں مُتبرّک چیزیں بھجوادیں۔ آپ رضیَ اللہُ عنہ نے حصولِ بَرَکت کے لئے چادر مبارک کو اوڑھ لیا پھر ایک برتن میں موئے مبارک کو غسل دیا اور اس غَسالَہ کو پینے کے بعد باقی پانی اپنے جسم پر مَل لیا۔ (تاریخ ابنِ عساکر،ج 59،ص153)
وصالِ مبارک آپ رضیَ اللہُ عنہ کے پاس حضور سیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تَبرّکات میں سے اِزار (تہبند) شریف، ردائے اقدس، قمیصِ اطہر، موئے مبارک اور ناخنِ بابرکت کے مقدّس تراشے تھے، تَبرّکات سے برکات حاصل کرنے اور اہلِ بیت و صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کی خدمت کا سلسلہ جاری و ساری تھا کہ وقت نے سفرِِ زندگی کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کردیا چنانچہ بَوقتِ انتقال وصیّت کی کہ مجھے حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اِزار شریف و ردائے اقدس و قمیصِ اطہر میں کفن دینا، ناک اور منہ پر موئے مبارک اور ناخنِ بابرکت کے تراشے رکھ دینا اور پھر مجھے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن کے رحم پر چھوڑ دینا۔(تاریخ ابن عساکر،ج 59،ص229تا231) کاتبِ وحی، جلیلُ القدر صحابیِ رسول حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ نے 22رجب المرجب()60ھ میں 78سال کی عمر میں داعیِ اَجل کو لبیک کہا۔(معجم کبیر،ج 19،ص305، رقم: 679، استیعاب،ج 3،ص472) حضرت سیّدُنا ضَحّاک بن قَیس رضیَ اللہُ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھانے کا شرف حاصل کیا جبکہ دِمَشْق کے بابُ الصغیر کو آخری آرام گاہ ہونے کا اعزاز بخشا گیا۔ (الثقات لابن حبان،ج1،ص436)
بدگوئی سے توبہ شمسُ الائمہ امام سَرْخَسی رحمۃُ اللہِ علیہ (سالِ وفات:483ھ)نے مبسوط میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ پہلے پہل امامِ جلیل محمد بن فضل الکماری رحمۃُ اللہِ علیہ (سالِ وفات: 381ھ) حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ کے خلاف بدگوئی اور عیب جوئی میں مبتلا ہوگئے تھے پھر ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ ان کے منہ سے لمبے لمبے بال نکل کر پاؤں تک لٹک گئے ہیں اور وہ ان بالوں کو اپنے پاؤں میں روندتے چلے جارہے ہیں جبکہ زبان سے خون جاری ہے جس سے ان کو سخت تکلیف اور اذیت ہورہی ہے، بیدار ہونے کے بعد انہوں نے تعبیر بتانے والے سے اس کی تعبیر پوچھی تو اس نے کہا: آپ کِبار صحابہ علیہمُ الرِّضوان میں سے کسی صحابی کی بدگوئی اور ان پر طعن کرتے ہیں، اس فعل سے بچئے اور اجتناب کیجئے۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس سے فوراً تائب ہوگئے۔ (المبسوط،جز:24،ج 12،ص57)
ہرصحابیِ نبی جنّتی جنّتی صدیق و عمر بھی جنّتی جنّتی
عثمانِ غنی جنّتی جنّتی فاطمہ و علی جنّتی جنّتی
حسن و حسین بھی جنّتی جنّتی امیرِ معاویہ بھی جنّتی جنّتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭…مدرس مرکزی جامعۃ المدینہ ،عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی
۔۔۔4 اور 15 رجب المرجب بھی مروی ہے۔



حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی رسول ، کاتبِ وحی اور آنحضرت ﷺ کے برادر نسبتی تھے ۔ سیدنا عمر فاروقؓ ، سیدنا عثمان غنیؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے معتمدِ خاص تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ خلافتِ صدیقیؓ ، خلافتِ فاروقیؓ اور خلافت عثمانیؓ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔ آپ فقیہہ صحابی تھے ، آپ کا حلم تمام اُمت میں مشہور تھا ۔ سیدنا امیر معاویہؓ کی فتوحات ، عسکری نظام مملکت نظم و نسق ، معاشی و اقتصادی اصطلاحات ، تدبیر و سیاست ، فہم و فراست ظرافت و خطابت اور عدل و انصاف بے مثال تھا۔نبی کریم ﷺ نے آپ کے لئے دعا فرمائی : ’’اے اﷲ ! معاویہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنادیجئے اور اس کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دیجئے ‘‘ ۔ ( جامع ترمذی )
نام و نسب اور خاندان : نام معاویہ کنیت ابوعبدالرحمن تھی ۔ آپ کے والد ماجد صخر اور کنیت ابوسفیان تھی اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ والدہ محترمہ حضرت ہندہ تھیں ، یہ دونوں فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے۔ والد ماجد کی جانب سے سلسلہ نسب یوں ہے : معاویہ بن سفیان بن حرب بن اُمیہ بن عبدشمس بن عبدمناف ، اسی طرح آپ کا سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں سرکار دوعالم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم تک جاملتا ہے ۔ والدہ ماجدہ کی جانب سے سلسلۂ نسب یوں ہے : حضرت ہندہ بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبدمناف ۔ نبی کریم کی زوجہ محترمہ اُم المؤمنین سیدہ اُم حبیبہ سیدنا معاویہؓ کی بہن تھیں۔
قبول اسلام : حضرت امیر معاویہؓ ظاہری طورپر فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ اس سے قبل ہی اسلام قبول کرچکے تھے ۔ چنانچہ مشہور واقدی کہتے ہیں : ’’حضرت معاویہؓ صلح حدیبیہ کے دن اسلام لائے مگر آپ نے اسلام کو چھپائے رکھا اور فتح مکہ کے دن ظاہر کیا‘‘ ۔ ابن سعد کہتے ہیں : حضرت معاویہؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں عمرۃ القضاء کے روز ایمان لایا تھا لیکن اپنے والد کے ڈر سے اپنے ایمان کو فتح مکہ تک چھپائے رکھا۔ (البدایہ و النھایہ) یہی وجہ ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ بدر ، اُحد ، خندق اور غزوۂ حدیبیہ کے معرکوں میں کفار کی جانب سے شریک نہ ہوئے ۔ حالانکہ آپ جوان تھے ۔ آنحضرت ﷺ کے دور میں مختلف غزوات میں شرکت کی اور کفار سے جہاد کیا ۔ آپؓ نے آنحضرت ﷺ کے ہمراہ غزوۂ حنین میں بھی شرکت فرمائی ۔
کتابت وحی کے فرائض : سیدنا امیر معاویہؓ کو بارگاہ رسالت سے کتابت وحی کا منصب عطا ہوا ۔ جو وحی آپؐ پر نازل ہوتی اسے قلمبند فرماتے اور جو خطوط و فرامین حضور اکرم ﷺ کے دربار سے جاری ہوتے، انھیں آپ تحریر فرماتے ۔
حضرت امیر معاویہؓ کی وفات : جمعرات ۲۲؍ رجب المرجب ۶۰؁ھ کو اس جہاں فانی سے عالم جاودانی کی جانب رخصت ہوئے ۔ آپ نے ستر(۷۰) سال کی عمر پائی ۔ آپ کی نماز جنازہ ضحاک بن قیس نے پڑھائی ۔ دمشق میں مدفون ہوئے ۔ (تاریخ اسلام )

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی