حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم خیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ Hazrat Khawaja Khuda Bakhsh Multani Summa Khairpuri |Hazrat khuda Bakhsh Rehamatullaha Aaleha multan



حضرت خواجہ خدا
 بخش ملتانی ثم خیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب:اسمِ گرامی:حضرت خواجہ خدابخش۔لقب:ملتان شریف کی نسبت سے"ملتانی"مرشدکےحکم سےخیرپورتشریف لائے تو"خیرپوری"کہلائے۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:مولانا خدابخش بن مولانا جان محمد بن مولاناعنایت اللہ بن مولانا حسن علی بن مولانا محمود جیو بن مولانا محمد اسحاق بن مولانا علاؤالدین ۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)۔آپ کے بزرگوں میں سے مولانا محمود جیو علیہ الرحمہ کو بخاری زبانی یادتھی،اورصاحبِ کرامت بزرگ تھے۔آپ کے والد ماجد مولانا قاضی جان محمد علیہ الرحمہ  عالم باعمل  اور صاحب زہد و تقویٰ  بزرگ تھے ۔ قصبہ "تلمبہ"میں رہتے تھے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1150ھ،مطابق 1737ءکو "قصبہ تلمبہ"(ضلع خانیوال کاایک تاریخی قصبہ،ملتان سے سو کلومیٹر دورہے)میں ہوئی۔

تحصیل علم: آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی پھر ذرا بڑا ہونے پر مزید تعلیم کے لیے والد ماجد کے کہنے پر دہلی میں تشریف لے گئے اور "مدرسہ رحیمیہ دہلی "میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  کی شاگردی اختیار کی۔ ا ور ان سے دینی علوم کی تکمیل کی دہلی میں قیام کے دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ آپ نے چند دیگر مشائخ سے  روحانی استفادہ  بھی کیا۔

بیعت وخلافت: آپ حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف ہوئے۔

سیرت وخصائص: شیخ المشائخ،سراج الواصلین،فخرالعاشقین،سندالعارفین،حجۃ الکاملین،امام العلماء الراسخین،محبوب اللہ حضرت خواجہ خدابخش ملتانی ثم الخیر پوری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ اپنے وقت کے جید عالم اور ولیِ کامل تھے۔علم حاصل کرنے کے بعد واپس تلمبہ تشریف لائے اور والد گرامی کے زیر سایہ وہیں زندگی کے شب و روز گزارنے لگے کچھ عرصہ کے بعد یہاں سے نقل مکانی کر کے ملتان میں سکونت پذیر ہوگئے ملتان کےمحلہ"کمہار پورہ "(حسین آگاہی اور دولت گیٹ کےدرمیان میں واقع ہے)میں آپ کی رہائش تھی ۔یہیں آپ نے درس و تدریس کا آغاز کیا تھوڑے عرصہ میں آپ کے درس کی شہرت گردو نواح میں پھیل گئی اور طالب علم دور دور سے آپ کے پاس آنے لگے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے چالیس سال تک ملتان میں قرآن و حدیث کا درس دیا اور ہزاروں لوگ آپ کے علمی فیض سے مستفید ہوئے۔کمہاروں کی اس مسجد کانام ہی"درس والی مسجد"مشہورہوگیا۔جوابھی تک  اسی نام سے مشہور ہے۔(اس وقت اس مسجد میں میرے استادِ محترم غزالی زمان علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید،فقیہ العصر، مفتیِ اعظم ملتان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیع چشتی گولڑی مدظلہ العالی،کافی عرصے سے دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں،اورقرآن وحدیث کے نور سے عوام کے دلوں کومنور کررہے ہیں۔اللہ تعالیٰ درازیِ عمر عطاء فرمائے۔آمین (تونسوی غفرلہ)

ایک مرتبہ  حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں اسطرح تذکرہ ہواکہ شیخ الاسلام حضرت بہاؤالدین زکریا  رحمۃ اللہ علیہ کاتصرف بعدازوصال اسی طرح عیاں ہے ،آپ کی مرضی کے بغیر کوئی بھی اہل اللہ ملتان میں نہیں رہ سکتا ہے۔حضرت خواجہ دہلوی نے یہ سن کرسکوت فرمایا۔دوسرے دن آپ نے حضرت  قبلۂ عالم کو حکم فرمایا کہ آج کی رات حضرت غوث العالمین تشریف لائےاور ملتان شریف  ہمارے حوالے کردیا۔آپ حافظ جمال صاحب کو حکم فرمائیں کہ ملتان  جا کر حضرت شیخ الاسلام کے مزار شریف کے سامنے بیٹھ کر بیعت کیاکریں۔حافظ جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے مولانا خدابخش ملتانی علیہ الرحمہ کو بیعت فرمایا،اورروحانی نعمتوں سے مالامال فرمایا۔حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی کی مرید اختیاری کرنے کے بعد سلوک کے مدارج طے کرنے شروع کیے۔بے حد ریاضت و عبادت کی رات دن اللہ کی یاد میں بسر کرنے لگے۔ مرشد سے صحبت کا غلبہ دن بدن بڑھتا چلا گیا آہستہ آہستہ آپ روحانیت کے مرتبہ کمال کو پہنچ گئے اور علم کی شہرت تو پہلے ہی تھی  اور شیخِ کامل  کی صحبت سے آپ کو شہرتِ دوام  مل گئی۔

قبلۂ عالم کی خدمت  اقدس میں: ایک  مرتبہ  حافظ جمال اللہ علیہ الرحمہ  نےمہار شریف کا قصدکیا ، اور آپ کو بھی ساتھ لے لیا۔ ابھی مہار شریف نہ پہنچے تھے کہ  قبلہ عالم دوستوں سے کہنے لگے کہ اس مرتبہ حافظ صاحب عجیب تحفہ لیے آرہے ہیں۔ سب نے سمجھا کہ ملتان کی کوئی بنی ہوئی چیز ہوگی۔ لیکن حضور نے فرمایا کہ نہیں یہ تحفہ مولانا صاحب کی ذات خاص ہے ۔ جسے حافظ صاحب میرے لیے لارہے ہیں۔ الغرض جب مولانا پہنچے اور زیارت سے مشرف ہوئے تو پہلی ہی صحبت میں منظور ہوگئے اور بارہا حضرت قبلہ عالم صاحب اپنی زبان فیض ترجمان سے مولانا صاحب کے اوصاف بیان فرماتے اور ان کی فطری قابلیت اور استعداد اظہار فرماتے تھے۔

علمی کمالات: جذب اور سکر آپ کے حال پر تنا غالب ہوا کہ چلتے چلتے راستہ بھول جاتے تھے۔ ایک دن جناب حافظ صاحب نے ان کی یہ کیفیت حضرت قبلہ ٔعالم کےگوش گزار کی ۔ فرمایا ان کےتمام اورادووظائف معطل کرا دو،صرف تدریس کے کام پر مامور کرو۔ جو ہر خاص و عام کے لیے بہرہ مندہے۔ اس لیے مولانا صاحب اپنے بزرگوں کی ہدایت کے مطابق علوم ظاہری کی تدریس میں مشغول ہوئے ۔ تفسیر ،حدیث،فقہ،عقائد ،علم ہیت، صرف و نحو، منطق و معانی ، بدیع و بیان وغیرہ جملہ علوم متعارفہ کی تعلیم دیتے تھے اور لوگوں کی فیض رسانی میں مشغول رہے اور آپ کے علمی کمالات کے چرچے خاص و عام میں پھیل گئے۔ عفوان شباب سے لےکر اخیر بڑھاپے تک لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور لوگوں کے فیض دینے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ان لوگوں کی تعداد بے شمار ہےجنہوں نے آپ کے مدرسہ سے فارغ ہوکر دستار فضیلت باندھی ، عام طالبعلموں کا تو شمار نہیں ۔آپ جو دو کرم اور فیض اتم کے ایک سمندر بے کنار تھے جن کے علوم کے سیلاب سے ہزاروں پیاسوں نے اپنی طلب اور شوق کی پیاس بجھائی۔ ان کے دل کا ایک ایک قطرہ درِ نایاب تھا۔ضعف بدنی کے باعث جب آپ میں درس و تدیس کی طاقت نہ رہی تواوراد و ظائف سے  وقت بچاکر اپنی مشہور تصنیف "تو فیقیہ" کے لکھنے میں مصروف رہتے۔ یہ وہ کتا ب ہے جس میں شریعت کے احکام طریقت کے آدابِ حقیقت اور معرفت کے اسرا بیان کیے ہیں۔

کمال زہد:جب حضرت قبلہ عالم  کا وصال ہوا ،اور جنازہ تیار ہوگیا تو صلحائے زمانہ نے یہ رائے پیش کی کہ امامت وہی شخص کرے کہ جس سے  ساری عمر کوئی "مستحب "ترک نہ ہواہو۔ کسی کو اپنے تئیں بھروسہ نہ تھا۔آپ ہی  اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شرف کے حامل تھے،اور حضرت قبلۂ عالم کی نمازِ جنازہ  کی امامت کاشرف آپ کو حاصل ہوا۔

 وصال: آپ کاوصال  بروزجمعررات،یکم صفرالمظفر 1250ھ،مطابق جون/1834ءکو ہوا۔آپ کامزار"خیرپورٹامیوالی"ضلع بہاولپورمیں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذومراجع: سردلبراں۔ گلشنِ ابرار

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی